بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ رزق کی کمی یا زیادتی اللہ کے اختیار میں ہے، لیکن کچھ اعمال ایسے ہیں جن سے رزق میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ شکر رزق میں برکت کا اہم ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سچ بولنا، امانت داری اور حلال کمائی رزق میں برکت کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح والدین کی خدمت اور صلہ رحمی بھی رزق میں اضافہ کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ حلال طریقے سے کمائیں، اللہ پر بھروسا رکھیں اور گناہوں سے بچیں، کیونکہ گناہ رزق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے اور اس میں برکت دے، آمین۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم صبر اسلام کی ایک عظیم صفت ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھے اور نافرمانی سے بچے۔ صبر کرنے والا بندہ اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کرنے والوں کو اللہ کی خاص مدد حاصل ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا ہر معاملہ خیر کا ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور اگر تکلیف آئے تو صبر کرتا ہے، دونوں صورتوں میں اس کے لیے اجر ہے۔ صبر انسان کو مضبوط بناتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔ صبر کی بدولت انسان بڑے سے بڑا امتحان بھی آسانی سے گزار لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والا اور شکر گزار بنائے، آمین۔
زندگی آزمائشوں کا نام ہے۔ کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی آسانی اور کبھی مشکل۔ ایسے میں صبر وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر امید اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو بندہ صبر اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مضبوط اور اس کے قدموں کو ثابت رکھتا ہے۔ قرآن کی روشنی میں صبر کی اہمیت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" (سورۃ البقرہ: 153) یہ آیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ جو شخص صبر کرتا ہے، وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہوتا ہے۔ حدیث کی روشنی میں صبر کی فضیلت حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "مومن کو جو بھی تکلیف، غم یا پریشانی پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے" یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات دراصل اللہ کی طرف سے پاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ صبر کے فوائد صبر انسان کے دل کو سکون دیتا ہے، غصے کو قابو میں رکھتا ہے اور فیصلوں میں حکمت پیدا کرتا ہے۔ صبر کرنے والا انسان لوگوں کے دلوں میں عزت پاتا ہے اور اللہ کے نزدیک بلند مقام حاصل کرتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں