غیبت کی برائی: زبان کے گناہوں سے بچنے کا اسلامی طریقہ
اسلام انسان کو پاکیزہ اخلاق اور اچھے کردار کی تعلیم دیتا ہے۔ زبان کے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ غیبت ہے، جو بظاہر ایک معمولی بات لگتی ہے مگر اللہ کے نزدیک اس کا انجام بہت سخت ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں غیبت کی حقیقت، اس کے نقصانات اور اس سے بچنے کے عملی طریقوں پر روشنی ڈالیں گے۔ --- غیبت کا مفہوم نبی کریم ﷺ نے غیبت کی تعریف یوں فرمائی: "ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ" ترجمہ: اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ (مسلم) یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی ایسی بات بیان کرنا جو وہ خود سننا پسند نہ کرے، چاہے وہ بات سچ ہی کیوں نہ ہو، غیبت کہلاتی ہے۔ --- قرآن میں غیبت کی مذمت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا" ترجمہ: تم ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ (سورۃ الحجرات: 12) یہ آیت غیبت کی برائی کو ایک نہایت نفرت انگیز مثال کے ذریعے واضح کرتی ہے۔ --- غیبت کے نقصانات اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے نیکیوں کے ضائع...