اللہ پر توکل: کامیابی اور سکون کا آسان راستہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ایمان کی ایک عظیم صفت ہے۔ توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان پوری کوشش کرنے کے بعد اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دے اور اس بات پر کامل یقین رکھے کہ جو بھی ہوگا، اللہ کی مرضی اور حکمت کے مطابق ہوگا۔
آج کا انسان پریشانیوں، خوف اور بے چینی میں مبتلا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ پر توکل کم اور دنیا کے سہاروں پر بھروسہ زیادہ کر لیا ہے، حالانکہ حقیقی سکون صرف اللہ پر بھروسہ کرنے میں ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہی اس کے لیے کافی ہے”
(سورۃ الطلاق)
نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ پہلے اونٹ باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ محنت کے ساتھ اللہ پر اعتماد کرنا ہے۔
جب انسان اللہ پر توکل کرتا ہے تو:
دل کو سکون ملتا ہے
پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں
مشکل وقت آسان بن جاتا ہے
ہمیں چاہیے کہ ہر کام کی شروعات بسم اللہ سے کریں، نماز کی پابندی کریں، حلال رزق کی کوشش کریں اور نتائج اللہ کے سپرد کر دیں۔
آخر میں دعا ہے کہ: یا اللہ! ہمیں سچا توکل عطا فرما، ہمارے دلوں کو اپنے سہارے پر مطمئن کر دے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب فرما۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں